ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کشمیر میں 56ویں روز بھی حالات جوں کے توں

کشمیر میں 56ویں روز بھی حالات جوں کے توں

Mon, 30 Sep 2019 10:51:31    S.O. News Service

سری نگر،30؍ستمبر(ایس او نیوز؍یو این آئی) جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی آئین ہند کی دفعہ 370کو بے اثر کرنے کے56ویں روز کے بعد بھی وادیئ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق نہیں ہوسکے ہیں۔ اس درمیان شہر میں ہفتہ کے روز کشمیر اور کئی نشیبی علاقوں میں پتھراؤ کر نے والے افراد کو بکھیرنے کے لیے سلامتی دستوں نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ پتھراؤمیں 10سے زیادہ گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایاکہ وادی میں کہیں بھی کرفیو کی طرح پابندی نہیں ہے لیکن 4 یا زیادہ افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے سے روکنے کے مقصد سے احتیاطاً دفعہ 144نافذ ہے۔ وادی میں اس وقت لینڈ لائن خدمات حسبِ معمول کام کر رہی ہیں۔ لیکن بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ(بی ایس این ایل)اوردیگر تمام سیلولر کمپنیوں کے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ کشمیر میں واقع تاریخی جامعہ مسجد کے تمام گیٹ 5/ اگست سے بند ہیں،لاء اینڈ آرڈر قائم رکھنے کے لیے مسجد کے آس پاس اور بازار میں بڑی تعداد میں نیم فوجی دستوں کی کمپنیاں تعینات ہیں۔ یہ علاقہ میر واعظ مولوی عمر فاروق کا گڑھ مانا جاتا ہے اور اس مسجد میں 5/ اگست کے بعد اب تک کوئی نماز ادا نہیں کی گئی ہے۔سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں دکانیں، تجارتی مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر عوامی نقل و حمل (ٹرانسپورٹ)بھی نہیں ہے لیکن پرائیویٹ گاڑیاں کم تعداد میں چل رہی ہیں۔ سیول لائنز اور تاریخی لال چوک بھی سُنسان پڑے ہیں اور یہاں بھی کافی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کیے گئے ہیں۔موصولہ رپورٹس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں کچھ حساس مقامات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہاں دکانیں اور تجارتی مراکزبند ہیں اور سڑکوں پر گاڑیاں ندارد ہیں۔اسی طرح کی رپورٹس کلگام،شوپیاں،پلوامہ،پمپور،ترال اور اونتی پورہ سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ کپواڑہ، بارہمولہ،پاٹن، سوپور، ہندواڑا اور شمالی کشمیر کے اَجَس کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ وسطیٰ کشمیر کے گندیربل اور بڑگام میں بھی بند اورقدغن کی رپورٹس مل رہی ہیں۔جنوبی کشمیرکے بارہمولہ سے جموں خطے کے بنیہال میں ٹرین خدمات بھی سکیورٹی وجوہات کی بناپرمعطل ہیں۔


Share: